Majzoob
@Majzoob12
Followers
41K
Following
20K
Media
879
Statuses
22K
ادیب،شاعر،محقق،مصنف۔ MBA.MCS Australia
Dallas, Melbourne
Joined April 2010
میں پنجاب بُک فاونڈیشن کا مشکور ہوں جنہوں نے میری دو کتب مکالماتِ فیض ملتان دائم آباد کو پنجاب کی تمام جامعات کے طلباء و طالبات کو تحقیق (پی ایچ ڈی,ایم فل) کے لئے ان کتابوں سے استفادہ کرنے کا سرکلر جاری کیا ہے۔
161
362
319
ہم بھاگتے ہیں اور نہیں جانتے کہ کہاں؟ ہم ہمیشہ ان تھکی ہوئی روحوں میں الجھ جاتے ہیں اور دوسروں کو ان میں شامل کرنا نہیں چاہتے، ہم تمام چیزیں اپنے ساتھ لیے ہوئے دور چلے جاتے ہیں، اور ہمارے پاس کچھ بھی نہیں ہوتا۔ مجذوبؔ
1
3
14
مجھے عمر کا بڑھ جانا دکھ نہیں دیتا، کیونکہ یہ ایک لازمی امر ہے بلکہ مجھے زندگی کے وہ سخت سبق دکھ دیتے ہیں جو میں نے بہت تاخیر سے سیکھے، اور اپنی عمر کا سب سے خوبصورت حصہ ان لوگوں کے ساتھ ضائع کر دیا جو اس کے مستحق نہیں تھے۔ مجذوبؔ @Melair melbourne airport
9
7
38
لكڑی سے بنا ہماری زندگی کا تھیٹر آہستہ آہستہ جَل رہا ہے, ہمارے دِن اختتام پذیر ہیں, ہماری راتیں گِنی جا چُکی ہیں, تو کیوں نہ ہم اپنی رُوحوں کے دروازے کھول کر اپنے دِن اور رات محبت سے حَسین بنا لیں۔
1
9
23
یقین رکھو کہ جو کچھ تمہارے لیے مقدر ہے، وہ پہلے ہی تمہاری زندگی کی طرف بڑھ رہا ہے، شاید اسے آنے میں وقت لگے، اور ہو سکتا ہے وہ ایسے طریقوں سے آئے جن کا تم نے کبھی تصور بھی نہ کیا ہو، مگر جو واقعی تمہارا ہے، وہ کبھی تمہیں چھوڑ کر نہیں جائے گا، جب وقت درست ہوگا، تو وہ سب کچھ تم
2
12
31
اے دوست بتا تو کیسا ہے کیا اب بھی محلّہ ویسا ہے ؟ وہ لوگ پرانےکیسے ہیں ؟ کیا اب بھی وہاں سب رہتے ہیں ؟ جن کو میں تب چھوڑ گیا دوکان تھی جوایک چھوٹی سی کیا بوڑھا چاچا ہوتا ہے ؟ کیا چیزیں اب بھی ہیں ملتی بسکٹ ، پاپڑ اور گولی اور گولی کھٹی میٹھی سی ؟ بیری والے گھر میں اب بھی کیا
6
6
14
"جو تمہارا نہیں ہے، وہ تمہارا نہیں ہے" وہ اپنے ہاتھ میں ایک نایاب پھول پکڑے ہوئے تھا، جو خوشبو سے بھرپور تھا، جیسے وہ جنت کے باغ سے چُنا گیا ہو، اُس نے اسے طویل عرصے تک دیکھا، اس کے نرم پتے محسوس کیے، اور زندگی کی حرارت کو اپنی گہرائیوں میں محسوس کیا، وہ اسے دور سے ویسے ہی دیکھ
2
5
11
تو نے پوچھا ہے مجھے درد کہاں ہوتا ہے ایک جگہ ہو تو بتاؤں، کہ یہاں ہوتا ہے انور مسعود چین چھن جاتے ہیں، دنیا ہی اُجڑ جاتی ہے عشق بے رحم کا جس دل سے گزر ہوتا ہے!
2
7
17
ہمارے خوف محض ہمارے دلوں پر پڑنے والے سائے نہیں ہیں، بلکہ یہ ایک ایسی گونج ہے جو ہماری گہرائیوں میں سرگوشی کرتی ہے، ہم ڈرتے ہیں کہ سچی تڑپ کے ساتھ بات کریں، جبکہ دوسرے ہم سے خاموشی کے سوا کچھ اور توقع نہیں رکھتے، ایک ایسی خاموشی جو ہمارے سینوں کو بوجھل کر دیتی ہے، اور ہمارے درد
1
5
17
اور خوشبوئیں اپنے مالکوں سے زیادہ وفادار رہتی ہیں، وہ ہمیں ان لمحوں کی طر�� لوٹا دیتی ہیں جنہیں ہم نے سمجھا تھا کہ دفن کر دیا ہے، لیکن وہ ہوا کے جھونکے سے اپنی راکھ سے اٹھ کھڑی ہوتی ہیں کسی گزرے ہوئے مقام کی خوشبو، کسی نہ لوٹنے والے ہاتھ کی، اور ایک ایسے لمحے کی جسے ہم نے قفل لگا
1
4
17
“ دسترس ترک تعلق کا سبب ٹھہری اُس کو کافی نہ لگا میرا مُیسر ہونا ۔۔”
1
8
20
تاکہ حقیقت آپ کو صدمہ نہ دے، تو جان لیں کہ آپ کا دل اس سے زیادہ وسیع ہو سکتا ہے جو دوسرے اس میں بستے ہیں، یہ وہم نہ پالیں کہ آپ کی محبت کا بدلہ اسی طرح دیا جائے گا، یا آپ کی قربانی کی اتنی قدر کی جائے گی جتنی ہونی چاہیے، اور اپنی امید کسی پر نہ رکھیں، کیونکہ آپ جتنا بھی دیں گے،
0
5
16
ہمیں دنوں اور نصیب نے توڑا، خاندان اور ہماری صحت نے توڑا، ہر ان چیزوں نے ہمیں توڑا جن سے ہم نے ایک ہی وقت میں محبت کی تھی، یہاں تک کہ ہم عین جوانی میں ایسے کھڑے ہو گئے جیسے کوئی ان ملبوں کے درمیان خود کو تلاش کر رہا ہو جنہیں وہ اچھی طرح جانتا ہے، ہم ایک ایسے درد پر ہاتھ پھیرتے
0
5
12
ڈیڑھ کمرے کی ایک دنیا میں ایک بستر ہے کچھ کتابیں ہیں آنے جانے کو ایک دروازہ خیر ! آتا بھی کون ہے گھر میں نام لیوا رفاقتوں کے امیں!!! دُووور کے کچھ قریبی رشتے دار کچھ نئے ۔۔۔۔۔ اور کچھ پرانے یار ! لا اُبالی سے چار ، چھے شاعر ایک ذہنی مریضہ قتالہ۔۔۔۔ کچھ خواتین پختہ عمروں کی!
3
5
17
میں نےتو پھونک پھونک کے رکھا تھا ہر قدم موسم ہی تیرے شہر میں.. رسوائیوں کا تھا
6
19
50
اور ایسا ہوتا ہے کہ ہماری زندگی اچانک بدل جاتی ہے، تو حالات ہمیں ایسی چیزوں سے مطابقت پیدا کرنے پر مجبور کر دیتے ہیں جو ہماری شکل و صورت سے میل نہیں کھاتیں، اور نہ ہی اس اندرونی آواز سے جو راتوں کو ہمیں پکارتی ہے، اور ایسا ہوتا ہے کہ ہمیں وہ نگلنا پڑتا ہے جو ناقابلِ برداشت ہو،
1
6
15
ہم نے بھی اپنے بخت پر پڑھ لی ہے فاتحہ اے عشق تو بھی جا کر جہنم رسید ہو
7
8
27
ہم کو ہماری نیند بھی پوری نہیں ملی لوگوں کو ان کے خواب جگا کر دیے گئے۔ نوسٹلجیا مُوڈ
9
13
50
ہماری تھکن دکھائی نہیں دیتی، لیکن یہ ہماری ملامتوں میں بستی ہے، یہ ہمارے کندھوں کے جھکاؤ میں، ہماری آوازوں کی کپکپاہٹ میں، اور جو ہم کہتے ہیں اور جو چھپاتے ہیں اس کے درمیان طویل فاصلے میں بستی ہے، ہم ایسے بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں جن کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا، ہم ایسی مایوسیوں کو
1
12
21